بنگلورو،3؍مارچ(ایس او نیوز) کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگذار صدر دنیش گنڈو راؤ نے سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپاکوچیلنج کیا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے کانگریس اعلیٰ کمان کو رقم ادا کرنے کا الزام لگانے کے بعد انہوں نے جو ڈائری کے صفحات منظر عام پر لائے ہیں،فوراً ان کی تائید میں ثبوت پیش کریں، تاکہ الزامات ثابت ہوسکیں۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اسٹیل برڈج کی تعمیر کے عوض رشوت لینے کا الزام لگانے کے ساتھ یڈیورپا نے ان کے والد آرگنڈو راؤ اور ان کی ماں ورلکشمی گنڈوراؤ پر گومال کی زمین غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے کا بیہودہ الزام لگایاہے۔ دنیش گنڈو راؤ نے یڈیورپا کو چیلنج کیا کہ یہ تمام الزامات ثابت کریں اور اس سلسلے میں دستاویزات منظر عام پر لائیں۔ انہو ں نے کہاکہ بحیثیت رکن اسمبلی انہوں نے اب تک ایک ایکڑ زمین کی خریداری بھی نہیں کی ہے، ان کے والد کے دورمیں کچھ زمینات خریدی گئی تھیں جو اب بھی برقرار ہیں۔ ریاستی حکومت کی طرف سے اسٹیل برڈج کی تعمیر کے فیصلے کو منسوخ کرنے کے اقدام کو بی جے پی کیلئے ایک کرارا جواب قرار دیتے ہوئے کہاکہ شہر کے ٹریفک مسئلے کو سلجھانے کی نیت سے حکومت نے اتنا بڑا پراجکٹ شروع کرنے کا بیڑہ اٹھایاتھا، لیکن کچھ مفاد پرستوں نے غیر ضروری طور پر اس معاملے پر ہنگامہ مچایا اور بیہودہ الزام تراشیاں شروع کردیں، جس کے نتیجہ میں حکومت کو مجبوراً اس پراجکٹ کو روکنا پڑا۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کو خوف تھاکہ اگر ودھان سودھا سے ہبال تک یہ مجوزہ اسٹیل برڈج تیار ہوجاتا تو اس کا سارا سہرا کانگریس اپنے سر لے لیتی ۔ دنیش نے کہاکہ ممکن ہے کہ انتخابات کے بعد جب دوبارہ ریاست میں کانگریس پارٹی برسر اقتدار آئے گی اس وقت بی جے پی کو سمجھ میں آئے گا کہ عوامی فلاح سے جڑے منصوبے کی مخالفت اسے نہیں کرنی چاہئے تھی۔